ہاپوڑ،21/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش بجلی محکمہ غلط بل دینے کو لے کر گزشتہ کچھ وقت سے مسلسل سرخیوں میں رہا ہے۔تازہ معاملہ ہاپوڑ واقع چامری گاؤں کا ہے۔بجلی محکمہ نے یہاں رہنے والے ایک بزرگ 128 کروڑ روپے کا بل تھما دیا۔خاص بات تو یہ ہے کہ جو بل دیا گیا ہے اس میں مہینے میں محض دو کلو واٹ بجلی استعمال کرنے کی بات کہی گئی ہے۔بزرگ اس غلط بل کو ٹھیک کرانے کو لے کر گزشتہ کچھ دنوں سے بجلی محکمہ کا چکر لگا رہا ہے لیکن کوئی بھی اس کی مدد نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا کہ ہماری بات کوئی نہیں سن رہا ہے۔ہم اتنی بڑی رقم کہاں سے جمع کروا سکتے ہیں۔ہم جب اس بل کو لے کر شکایت کرنے گئے تو ہمیں کہا گیا کہ اگر ہم نے بجلی بل نہیں بھرا تو ہمارا کنکشن بھی کاٹ دیا جائے گا۔شمیم نے الزام لگایا کہ ایسا لگتا ہے کہ بجلی محکمہ نے پورے شہر کا بل میرے گھر کے نام پر ہی جاری کر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ابھی تک میرے گھر کا بل 700 سے 800 روپے کے درمیان آتا تھا۔شمیم میں بتایا کہ میں اپنے گھر میں صرف ایک بلب اور ایک پنکھا ہی چلاتا ہوں۔اب ایک بلب اور پنکھے کا بل اتنا کیسے آ سکتا ہے۔غور طلب ہے کہ یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے جب یوپی بجلی محکمہ نے کسی کو فرضی بل تھمایا ہو۔اس سے پہلے اسی سال جنوری میں محکمہ نے ایک نوجوان کو اس کے گھر میں استعمال کی جا رہی بجلی کے لئے 23 کروڑ روپے کا بل دھما دیا تھا۔خاص بات یہ ہے کہ یوپی الیکٹسٹی ڈپارٹمنٹ نے اپنی بل میں صاف طور پر لکھا ہے کہ نوجوان کے گھر میں اس دوران 178 یونٹ ختم کی گئی تھی۔یہ پورا معاملہ یوپی کے قنوج ضلع کا تھا۔عبدالباسط نے اس معاملے کی شکایت محکمہ کوکی ہے۔عبدالباسط نے کہا تھا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ بجلی محکمہ نے مجھے پورے اتر پردیش کا بل تھما دیا ہے۔باسط نے کہا کہ اگر میں پوری زندگی کماکر اس بل کو بھرتا رہوں تو بھی نہیں ہوگا۔بتا دیں کہ محکمہ نے باسط کو 23,67,71,524روپے کا بل دیا تھا۔